تحریر: رباب بتول
حوزہ نیوز ایجنسی | انسان کی حقیقی عظمت اس کی جسمانی قوت یا ظاہری اقتدار میں نہیں، بلکہ اس کے عزم، استقامت اور حق پسندی میں پوشیدہ ہے۔ سب سے بڑا امتحان اس وقت آتا ہے جب حالات مخالف ہوں، انسان تنہا رہ جائے اور باطل پوری قوت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہو۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ
"اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے حق کی گواہی دینے والے بن جاؤ، خواہ یہ گواہی تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔" (سورۂ نساء: 135)
انسان کی حقیقی عظمت اس کی جسمانی قوت یا ظاہری اقتدار میں نہیں، بلکہ اس کے عزم، استقامت اور حق پسندی میں پوشیدہ ہے۔ سب سے بڑا امتحان اس وقت آتا ہے جب حالات مخالف ہوں، انسان تنہا رہ جائے اور باطل پوری قوت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہو۔ ایسے نازک مرحلے میں حق پر ثابت قدم رہنا، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنا ہی حقیقی استقامت ہے۔
حق پر ڈٹ جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر حال میں سچ کا ساتھ دے، مظلوم کی حمایت کرے اور اپنے ایمان و اصول کو دنیاوی مفادات پر قربان نہ کرے، خواہ اس کی قیمت اپنی جان ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔
تاریخِ اسلام میں حق پر استقامت کی سب سے عظیم مثال واقعۂ کربلا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے پاس نہ کوئی بڑا لشکر تھا، نہ ظاہری وسائل اور نہ ہی دنیاوی طاقت؛ مگر ان کے پاس ایمان، حق اور یقین کی قوت تھی۔ دوسری طرف یزید کی حکومت تھی، جس کے پاس اقتدار، دولت اور فوج سب کچھ موجود تھا۔ باطل نے امام حسین علیہ السلام کو ہر طرح کی دنیاوی مراعات کی پیشکش کی، لیکن آپ علیہ السلام نے ایک لمحے کے لیے بھی باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا۔ آپ علیہ السلام نے اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ عزت کی موت، ذلت کی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔
کربلا کے میدان میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کی قربانی نوجوانوں کے لیے استقامت کا روشن نمونہ ہے۔ شدید پیاس کی حالت میں بھی آپ علیہ السلام میدانِ جنگ میں اترے، حق کی خاطر بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور آخرکار جامِ شہادت نوش فرمایا۔ امام حسین علیہ السلام کے لیے یہ لمحہ انتہائی جانکاہ تھا، لیکن آپ علیہ السلام نے رضائے الٰہی کے سامنے سر جھکا دیا۔ یہ قربانی اس حقیقت کی علامت ہے کہ حق کی حفاظت کے لیے جوانوں نے بھی اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔
دس محرم کو امام حسین علیہ السلام نے اپنے اہلِ بیت علیہ السلام اور وفادار اصحاب کے ساتھ عظیم قربانی پیش کر کے انسانیت کو یہ ابدی پیغام دیا کہ حق کی حفاظت کے لیے ہر قربانی پیش کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
تاہم کربلا کا پیغام عاشورا پر ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کا دوسرا اور نہایت اہم باب حضرت زینب علیہ السلام کی استقامت سے شروع ہوتا ہے۔ آپ سلام اللہ علیہا نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بھائی، بھتیجوں، بیٹوں اور عزیزوں کی شہادت دیکھی۔ خیمے جلائے گئے، بچوں کو پیاسا رکھا گیا، خواتین کی چادریں چھین لی گئیں اور اہلِ بیت علیہم السلام کو قیدی بنا کر کوفہ و شام کے بازاروں میں پھرایا گیا۔
ان تمام مصائب کے باوجود حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے حوصلے میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔ آپ سلام اللہ علیہا نہ ٹوٹیں، نہ جھکیں اور نہ ہی حق کا پرچم سرنگوں ہونے دیا۔ یزید کے دربار میں آپ سلام اللہ علیہا نے ایسا تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس نے باطل کے ایوانوں کو لرزا دیا۔ جب یزید نے اپنی ظاہری فتح پر غرور کیا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا: "ما رأيتُ إلّا جميلاً" "میں نے تو (راہِ خدا میں) سوائے اچھائی کے کچھ نہ دیکھا"۔
یہ جملہ صبر، رضا اور ایمان کی ایسی معراج ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی استقامت، بصیرت اور جرأتِ گفتار سے ثابت کیا کہ حق کی آواز کو نہ تلواریں خاموش کر سکتی ہیں اور نہ ہی قید و بند کی صعوبتیں۔
اربعین ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ حق کی نصرت کے لیے ظاہری وسائل سے زیادہ مضبوط ایمان، صبر اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انسان حق پر قائم ہو تو تنہائی بھی کمزوری نہیں رہتی بلکہ قوت بن جاتی ہے۔ حق کی اصل طاقت اسلحے میں نہیں بلکہ یقین، صبر اور کردار میں ہوتی ہے۔
آج اربعین ہم سب سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ہم ظلم کے سامنے خاموش ہیں؟ کیا ہم سچ بولنے سے گھبراتے ہیں؟ کیا ہم نے اپنے اصولوں کو دنیاوی مفادات پر قربان کر دیا ہے؟
اگر ہم واقعی حسینی اور زینبی کردار کے وارث بننا چاہتے ہیں تو ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ حق کا ساتھ دیں گے، مظلوم کی حمایت کریں گے، باطل کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور ہر حال میں عدل، صداقت اور استقامت کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں امام حسین علیہ السلام کی استقامت، حضرت عباس علیہ السلام کی وفاداری اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جرأت و بصیرت سے بہرہ مند فرمائے تاکہ ہم ہر دور میں حق کے علمبردار بن سکیں۔ آمین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ